پٹنہ،20مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)جنتادل راشٹروادی نے ٹیپوسلطان مسجدکے امام کے ساتھ بدتمیزی اورنمازجمعہ کے دوران ہنگامہ آرائی پرسخت رنج وغم کااظہارکیاہے۔جے ڈی آرکے قومی کنوینراورجواں سال مسلم رہنمااشفاق رحمن نے اپنے ردعمل میں کہاہے کہ مولانابرکتی صحیح یاغلط جوکچھ بھی کہہ رہے تھے آپس میں بیٹھ کرتصفیہ کیاجاسکتاتھا۔ نریندرمودی وزیراعظم کے عہدہ پرفائزرہنے کے باوجودکھلم کھلاشمسان اورقبرستان،رمضان میں بجلی کوبھی فرقہ وارانہ خطوط دینے پران کی قوم سے کوئی مخالفت نہیں کرتاہے۔کہیں سے کوئی مذمت کی آوازبلندنہیں ہوتی۔ لالوپرسادیہ کہہ سکتے ہیں کہ مودی ملک کوبانٹ دیگااس پربھی کوئی کچھ نہیں بولتا۔لیکن اگریہی بات کوئی مسلمان کہتاہے تواس کی سرزنش ہوجاتی ہے۔مسلمانوں میں ایک بیچارہ دل کاجلاامام کچھ بول دیتاہے صحیح یاغلط۔تولوگ نہ صرف انہیں ذلیل کرکے منصب سے اتاردیتے ہیں بلکہ پٹائی کرنے سے بھی بازنہیں آتے۔عجیب صورت حال ہے۔ہماری مسجدیں جواتحادکی علامت رہی ہیں۔ آج و ہ سیاست کااکھاڑہ بنتی جارہی ہیں۔ٹیپوسلطان مسجدمیں جوکچھ ہوااس سے اسلام اورمسلمانوں کی کون سی تصویربنی۔آج کامسلمان دوسرے سے مقابل نہیں ہورہاہے۔اپنے ہی لوگوں کے ساتھ گتھم گتھی میں شیربن رہاہے۔جمشیدپورکے سرائے کیلا میں جوکچھ ہواوہ ناقابل قبول ہے۔اچھاخاصے مسلم کاروباری کوگھیرگھیرکرعوام ماررہی ہے اورہم اتنے نحیف ہوچکے ہیں کہ احتجاج کی صداتک بلندنہیں کرپارہے ہیں۔آج ہم کہیں محفوظ نہیں ہیں۔نہ جیل میں،نہ اپنے گھروں میں اورنہ سفرکے وقت۔جیل میں بندلوگوں کوباہرنکال کرماراجارہاہے اورسفرکے وقت بھی ہلاکت کامنظررونماہورہاہے۔یہ بزدل اورنامردوں کی ٹولی ہوگئی ہے۔احتجاج بھی نہیں کرپارہے ہیں اورنہ متحدہیں۔حق بولناتودور کی بات اپنے لوگوں کے حق کی بات سننے کابھی مادہ نہیں ہے۔اپنے لوگوں کودوچارتھپڑمارکرمردسمجھ رہی ہیں اورچائے خانہ میں بیٹھ کرگپ بازی کی جارہی ہے،بڑی مشکل وقت آگیاہے۔لیکن بزدلی اس حدتک آچکی ہے کہ اپنے گھروں کی عزت نیلام کرجان کی حفاظت چاہتے ہیں جب کہ یہ سب کومعلوم ہے کہ جان کی حفاظت صرف اورصرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ہرمسئلہ مسائل میں کوئی غیرمسلم بولے یانہ بولے لیکن یہ ضرورہے کہ طلاق پرہردکان کاایک ایک علماء بول رہے ہیں۔72فرقوں کی یہ نشانی ہے۔شرعی قانون کیلئے عدالت میں جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ہندوستان میں سیکشن25 بناہواہے۔اشفاق رحمن کہتے ہیں کہ کل عدالت یہ فیصلہ کردے کہ نماز نہیں پڑھنی ہے توکون مسلمان ہوگاجونمازنہیں پڑھے گا۔ہرحال میں نمازکی ادائیگی ہوگی۔شادی اورطلاق پراللہ نے جوقانون بنادیاہے،وہی قانون ہے۔جوشریعت پرنہیں چلناچاہتے ہیں انہیں خودسمجھناہوگاکہ اسلام کے دائرے میں ہیں یانہیں؟عدالتیں کہتی ہیں کہ تین طلاق سب سے براطریقہ ہے۔قرآن توخودکہتاہے طلاق براہے۔ تواچھاطریقہ کونساہے وہ بتایاجائے۔سب بگاڑجاہل او رسیاسی علماء کی وجہ سے ہے۔انہیں نہ دین کی فکرہے اورنہ دنیاکی۔دوروپیہ کمانے کیلئے آرایس ایس کے ایجنٹ کے بطورٹی وی پربیٹھ کرنہ صرف ٹی آرپی بڑھارہے ہیں بلکہ اسلام اورمسلمانوں کوبدنام کررہے ہیں۔علماء کے اندرمصالحت نام کی کوئی چیزہی نہیں ہے۔مسلمانوں کی متحدکرنے کی انہوں نے کوئی ٹھوس اور ایماندارپہل نہیں کی۔پیغمبراسلام کی بات کوخوب کی جاتی ہے لیکن ان کے نقش قدم پرچلنے کیلئے کوئی آمادہ نہیں ہے۔اگراب بھی نہیں جاگیں،متحدنہیں ہوئے،احتجاج کی صدابلندنہیں کی تواوربھی برے دن دیکھنے پڑیں گے۔